*دوران حمل بچے پر ماں کے رویئے کا اثر* ۔
پہلے کچھ ڈاکٹرز کا اور دانشور لوگوں کا گمان تھا کہ ماں کے رہن سہن کا پیٹ میں پلنے والے بچے پر گہرا اثر ہوتا ہے لیکن اب جدید دور میں یہ بات یقین میں بدل دی ہے کہ ماں کے رویے کا بچے پر گہرا اثر ہوتا ہے۔جیسا کہ ذہنی دباؤ ،پریشانیاور غصہ جسم میں ہارمونز اور کیمیائی عوامل میں تبدیلی پیدا کر دیتے ہیں اور یہ عوامل خون کے ذریعے براہ راست بچے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
جب کہ بچہ ابھی تشکیل کے مراحل میں ہوتا ہے یہی عوامل جسمانی اور ذہنی طور پر بے حد متاثر کرتے ہیں۔
جدید تحقیقات کے ذریعے جو اثرات نمایاں ہوئے ہیں وہ یہ ہیں۔
1 پیدائش کے وقت بچے کا وزن کم ہوتا ہے۔
2 بچہ جسمانی طور پر کمزور ہوتا ہے۔
3 بچے کے طرز عمل میں نامناسب عادات پیدا ہو جاتی ہیں۔
یہی سب چیزیں جو کہ ماں کے رہن سہن اور رویے سے تعلق رکھتے ہیں بچے کی تربیت پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔
سائنس نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ دورانِ حمل مختلف آوازیں مثلاً دھماکے، ہنگامے شور و غل کی آوازیں بچے پر برے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ صوتی اثرات کو انسان قابل توجہ نہیں سمجھتا لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان میں سے ہر ایک بھرپور اثر رکھتا ہے۔ب
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ دوران حمل ماں کے رویّے کا بچے کی پرورش پر گہرا اثر پڑتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس کے گھر والوں کے افراد کا بھی بھی برابر کا حصہ ہوتا ہے۔
ماں کا طرز عمل خود اس کا بنایا ہوا نہیں ہوتا بلکہ گھر کے ہر فرد کا رویہ اس کو متعین کرتا ہے۔
ضروری نہیں گھر میں ہونے والے جگھڑے میں صرف ماں ہی قصوروار ہوں انسان کی خوشی غمی فکر اس کے احساسات پر بھی ہوتے ہیں ہیں لیکن اور دوسروں کے طرز عمل جو کہ ماں کے رویے کو متاثر کرتے ہیں اس کا نتیجہ ہوتے ہیں ہم یہ بات اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ گھر کا پورا ماحول ہی گھر کے ایک فرد کی آنے والے بچے کے ذہن کو متاثر کرتا ہے۔



Perfectly said loved it
جواب دیںحذف کریںAmazing
جواب دیںحذف کریں