اشاعتیں

اکتوبر, 2020 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

آج کل کے ابھرتے معاشرے میں بچوں کے حقوق۔

تصویر
 ہر معاشرہ اس میں رہنے والے اپنے فراد کو کچھ نہ کچھ حقوق دیتا ہے اس پر کچھ ذمہ داری عائد کرتا ہے اسی طرح والدین پر اولاد کا یہ حق ہے کر اس کی حیات کی تکمیل اور اس کی نشوونما کی ترقی کے لئے ہر وہ ذرائع و وسائل مہیا کرے جس سے اس کی قوت اور استطاعت ملے ۔  ہمارے معاشرے میں اسلام نئے آنے والے بچوں کے جو حقوق معین کرتا ہے ان کے بارے میں کچھ تفصیلات کا ہم ذکر کریں گے۔ بچے کی پیدائش پر خوشی کا اظہار۔ بچے کا اس دنیا میں آنے کے بعد سب سے پہلا حق یہ ہے کہ اس کے گھر والے، ان کے خاندان والے اس کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کریں یعنی کے ایک طرح سے اس کے آنے کا استقبال کیا جائے۔   اس معاملے میں آج کل کے دور میں جنس کی بنیاد پر تفریق کی جاتی ہے جو کہ ایک بہت بڑی غلط روش ہے عموماً لوگ بیٹے کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں لیکن بیٹی کی پیدائش پر وہ مسرت دیکھنے کو نظر نہیں آتی جو کہ ایک بہت بڑا المیہ ہے۔  جیسا کہ بیٹا دنیا کی زینت ہے تو اسی طرح بیٹی رحمت ہے۔ کہ اگر بیٹا دنیا کی اتنی اہم ضرورت ہوتا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور نوازا جاتا۔ بلکہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم...

بچوں کی تربیت میں موروثی عوامل کا دخل

تصویر
 ہر بچہ اپنی پیدائش سے ہی جنسیاتی طور پر دوسرے بچوں سے مختلف ہوتا ہے۔ تقریبا حمل کی ابتدا سے ہی ربے کریم اس بچے میں تقریبا پچاس ساٹھ کروڑ جرثوموں میں سے صرف ایک کو ہی وہی بار آور کے لئے منتخب کیا جاتا ہے ۔ ان کروڑوں جرثوموں میں ہر ایک جنسیاتی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ باور کرنے والے خاص جرثومہ کے علاوہ اگر دوسرا جرثومہ باور کرتا ہے تو ایک بالکل ہی مختلف شخصیت نمودار ہوتی ہے۔ جوں جوں بچہ بڑا ہوتا ہے اس کے کردار میں ہم جنسیاتی اوصاف واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ جو کہ ایک بہترین خصوصیت یا برائت کے طور پر نمایاں ہوتے ہیں اور انہیں خصوصیات یا برایت کے اشتراک سے ایک شخصیت وجود میں آتی ہے جو خود پر دوسروں کے اثرات کو معطل کرنے اور ان کے اخلاق کو بدلنے کی قوت رکھتی ہے۔ جنسیاتی عوامل کے علاوہ بھی کچھ ایسے سے افعال ہوتے ہیں جو بچے کی شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں. جن میں خاص طور پر دوران حمل بچے کی ماں کی خوراک اوقات کار, اٹھنا بیٹھنا اور اس کے ساتھ ماں کی سوچ کا بھی بچے کی شخصیت پر گہرا اثر پڑتا ہے. دوران حمل ماں جیسا سوچتی ہے اس سوچ کا اثر بچے کی دماغ پر پر کسی نہ کسی کسی طرح سے واض...

تربیت کے بہترین چند بنیادی اصول

تصویر
 تربیت ایک لگاتار سیکھنے کا نام ہے۔ اسی لئے ہمیں بچے کو پہلے دن سے ہی عمدہ اخلاق کا علم دینا شروع کر دینا چاہیےن وہ ایک ایسی باشعور ہستی ہے جس کا مشاہدہ بہت ہی تیز ہوتا ہے۔ یہ کہنا بالکل بھی مناسب نہیں کہ یہ بچہ ہے ابھی سے اسے کیا سمجھانا یہ خود ہی بڑا ہو کر سیکھنا شروع کر دے گا یہ بہت بڑا غلط المیہ ہے ۔  جس طرح ہر لمحہ ہر سیکنڈ بچے کا جسم نشونما پاتا ہے اسی طرح اس کی عادات بھی تشکیل پا رہی ہوتی ہیں جس محنت اور توجہ ہم اس کی جسمانی ضروریات کو تشکیل دینے میں دیتے ہیں اسی طرح ہمیں اس کے اخلاق بھی بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ تربیت کے معاملات کو بہتر بنانے کے لئے جزاوسزا ساتھ ساتھ چلتے رہنے چاہیے اچھے عمل پر جزا اور برے عمل پر سزا دینا کوئی غلط بات نہیں ہے جو کہ مناسب وقت پر ہی دینا چاہیے کیونکہ ہر گلستان کو خوبصورت بنانے کے لئے تمام پودوں پر لگاتار نظر رکھنا ان کی خراش تراش کرتے رہنا چاہیے۔

بچوں کی رہنمائی کے ذرائع یا نمبر 2.

تصویر
تجربات  تربیت کے ذرائع میں سب سے اہم ہیں تجربات، کہ ہر انسان اپنی زندگی میں بہت  سے تجربات سے گزرتا ہے وہ کچھ سیکھتا ہے اور آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور تجربہ کچھ نہ کچھ نیا سبق دیتا ہے۔  اس معاملے میں ہر فرد عام طور پر  ایک نیا انداز رکھتا ہے اپنے علم و فہم کے مطابق اخذ کردہ نتیجہ اس کی اصل شخصیت اور کردار بنانے میں اہم ہوتا ہے۔ اور اگر بچہ ایک ایسے ماحول میں پل رہا ہے جس میں اس کو اچھی تقلید کے لیے نمونہ مل رہا ہے اچھی رہنمائی مل رہی ہے تو جب تجربہ سے گزرے گا تو ان سے بہترین نتائج اخذ کرنے کی کوشش کرے گا جو کہ اس کی کردار میں مثبت تبدیلی لائیں گے۔ اور اگر بدقسمتی سے بچہ کسی ایسے ماحول میں جوان ہو رہا ہے جہاں سے رہنمائی کے لیے نہ کوئی رہنما اور تقلید کے لیے نمونہ  نہ ہو تو جب تجربہ سے گزرتا ہے تو وہ اپنے علم کے مطابق نتیجہ اخذ کرتا ہے اور غلطیاں کر کے کچھ سیکھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس کے کردار میں وہ تبدیلی نظر ۔۔نہیں آتی جو کہ ایک اچھے رہنما کی رہنمائی میں ہونی چاہیے اور جب بچہ اپنے حاصل کرتا نتائج پر عمل کرتا ہے جس پر اس سے بہت زیادہ اعتماد ہوتا ہے تو اس ک...

بچوں کی تربیت کے ذرائع

تصویر
مومن شخص خاص طور پر بچے بالخصوص تین ذرائع سے سیکھتے ہیں۔ 1 تربیت 2 تقلید 3 تجربات تقلید بچپن ہی سے بچے کا ہر مشاہدہ اس کے ذہن میں نقشے کی طرح جگہ بناتا چلا جاتا ہے۔ وہ جو بھی بات اپنے بڑوں سے دیکھتا ہے ،سنتا ہے وہ اس کے کردار کا جزوی حصہ بننا شروع ہو جاتی ہے۔ ہر وہ غلط بات جو حیا کے منافی ہو جھوٹ ہو ،کسی کے کردار کے خلاف ہوں، جو بات بڑوں کے سامنے کرنے سے جھجکتے ہیں وہی بات آپ کو بچے کے سامنے کرنے سے بھی شرم محسوس کرنی چاہیے۔ کیونکہ بچہ بالکل آپ کا مقلد ہوتا ہے آپ جیسا آپ اسے بنانا چاہتے ہیں اس کے سامنے ویسا ہی کردار پیش کرنا ہوگا۔ جیسا کہ آپ نے  سنا ہوگا کہ لڑکی اپنی نانی پر جاتی ہیں یہ ایسے ایسے کھولو کو ایسے ہی نہیں بن جاتے یہ صدیوں کے مشاہدات کی بنا پر کہے جاتے ہیں ہیں جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ بچہ ویسا ہی بنے گا جیسا وہ دیکھے گا تو لڑکی اپنی ماں جیسا بنا کی کوشش کرے گی جیسے اس کی ماں کرتی ہے بچی بھی ویسا ہی کرنے کی کوشش کرے گی ، وہ خود اپنی ماں کی کاپی ہوتی ہے تو اس لیے بچی نانی پر ہی جائے گی۔ تقلید میں سب سے ضروری ہے نمونہ کی ذات کہ آپ اس کے سامنے کیسا نمونہ پیش کرتے ہیں؟ ...