اشاعتیں

ستمبر, 2020 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

دورانے رضایت بچے کی تربیت

تصویر
 بچے کی تربیت تو ابتدا سے ہی ایک ایک لمحے کا کام ہے۔ دینی علماء اس معاملے کو اتنی اہمیت دیتے ہیں کہ اگر بچے کی ماں دورانِ رضایت بچوں کو اپنا دودھ نہیں پلا رہی ہو تو اس کے لئے ایک ایسی آیا کا بندوبست کرے جو دین دار اور پاکیزہ فطرت کی مالک ہو اور صحت و صفائی اور نفاست کے اصولوں پر اچھی طرح سے عمل کرتی ہوں جو اسے اپنے دودھ سے مستفید کر سکے۔ اور دوران رضایت بچے کی ماں کو یا جو آیا جو بچے کو دودھ پلا رہی ہو اسے چاہیے کہ بسم اللہ پڑھ کر دودھ پلائے اور دودھ پلاتے ہوئے اپنی زبان سے اچھے اچھے اذکار کرتی رہے۔ جدید تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے کہ اس کا سر بچے کے ذہن پر پڑتا ہے دودھ کے اثر کا اسلام اس حد تک قائل ہے کہ اگر کوئی خاتون چند قطرے کس بچوں کو پلا دیں تو اس سے رشتہ قائم ہو جاتا ہے بلکہ خاتون کے گھر والوں سے بھی اس بچے کا ہی رشتہ قائم ہو جاتا ہے جو کہ حقیقی ماں کے رشتہ داروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور دودھ پلاتے وقت ماں کو یا آیا کچھ چاہیے اپنی خوراک کا اچھی طرح سے خیال رکھے۔ کیونکہ جو خوراک ماں کہے گی اس کا اثر ہی دودھ کے ذریعے بچے میں منتقل ہوگا اس طرح ماں کو چاہیے کہ چٹ پٹی چیزوں سے پرہیز ...

*دوران حمل بچے پر ماں کے رویئے کا اثر* ۔

تصویر
 پہلے کچھ ڈاکٹرز کا اور دانشور لوگوں کا گمان تھا کہ ماں کے رہن سہن کا پیٹ میں پلنے والے بچے پر گہرا اثر ہوتا ہے لیکن اب جدید دور میں یہ بات یقین میں بدل دی ہے کہ ماں کے رویے کا بچے پر گہرا اثر ہوتا ہے۔جیسا کہ ذہنی دباؤ ،پریشانیاور غصہ جسم میں ہارمونز اور کیمیائی عوامل میں تبدیلی پیدا کر دیتے ہیں اور یہ عوامل خون کے ذریعے براہ راست بچے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب کہ بچہ ابھی تشکیل کے مراحل میں ہوتا ہے یہی عوامل جسمانی اور ذہنی طور پر بے حد متاثر کرتے ہیں۔ جدید تحقیقات کے ذریعے جو اثرات نمایاں ہوئے ہیں وہ یہ ہیں۔ 1 پیدائش کے وقت بچے کا وزن کم ہوتا ہے۔ 2 بچہ جسمانی طور پر کمزور ہوتا ہے۔ 3 بچے کے طرز عمل میں نامناسب عادات پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہی سب چیزیں جو کہ ماں کے رہن سہن اور رویے سے تعلق رکھتے ہیں بچے کی تربیت پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ ماں جو خوراک کھاتی ہے یا دعائیں کھاتی ہے ان کا سر ایک عام فرد محسوس کر سکتا ہے لیکن یہ بات بات یہ ہے کہ ماں کا ذہنی طور شدہ ہو اس کا اخلاق اس کا رہن سہن کا کردار اس کی سوچیں اس کے دوہرائے جانے والے کلمات بچے پر اثر انداز ہورہے ہوتے ہیں۔ سائنس نے اس بات کو ...

بچوں کی تربیت کب اور کیسے شروع کی جائے

تصویر
 سوال نمبر-1  بچوں کی تربیت کب اور کیسے شروع کی جائے؟ بچپن ہی سے ہمیں اولاد کی تربیت پر اچھی طرح سے توجہ دینی چاہیے۔بہت سے لوگ یہی باتوں کو سوچ کر سستی کا شکار رہتے ہیں کہ ابھی بچہ چھوٹا ہے، بڑا ہوگا تو خود ہی ٹھیک ہو جائے گا دراصل وہ ان شرارتوں اور غلط عادات سے بچے کے مستقبل کو خراب کر رہے ہوتے ہیں۔ اور جس کی وجہ سے جب بچہ بڑا ہو جاتا ہے تو اس کے گندے اخلاق اور بری باتوں کی وجہ سے ہم خود ہی روتے اور کڑھتے نظر آتے ہیں۔ حالانکہ ہم سب یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو عادات بچپن میں ہی پختہ ہو جائیں وہ عمر بھر نہیں چھوڑتی۔ اسی لیے ہر والدین پر بھی لازم ہے کہ بچپن میں ہی بچے کو اچھی عادات اور بری عادت سے بچنے کی تلقین کریں اور اچھی عادت پر ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ اور بری عادتوں سے روکنے کے لیے بچوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اور ضرورت پڑے تو ان کو ڈانٹ ڈپٹ بھی کرنی چاہیے۔