دورانے رضایت بچے کی تربیت
بچے کی تربیت تو ابتدا سے ہی ایک ایک لمحے کا کام ہے۔ دینی علماء اس معاملے کو اتنی اہمیت دیتے ہیں کہ اگر بچے کی ماں دورانِ رضایت بچوں کو اپنا دودھ نہیں پلا رہی ہو تو اس کے لئے ایک ایسی آیا کا بندوبست کرے جو دین دار اور پاکیزہ فطرت کی مالک ہو اور صحت و صفائی اور نفاست کے اصولوں پر اچھی طرح سے عمل کرتی ہوں جو اسے اپنے دودھ سے مستفید کر سکے۔ اور دوران رضایت بچے کی ماں کو یا جو آیا جو بچے کو دودھ پلا رہی ہو اسے چاہیے کہ بسم اللہ پڑھ کر دودھ پلائے اور دودھ پلاتے ہوئے اپنی زبان سے اچھے اچھے اذکار کرتی رہے۔ جدید تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے کہ اس کا سر بچے کے ذہن پر پڑتا ہے دودھ کے اثر کا اسلام اس حد تک قائل ہے کہ اگر کوئی خاتون چند قطرے کس بچوں کو پلا دیں تو اس سے رشتہ قائم ہو جاتا ہے بلکہ خاتون کے گھر والوں سے بھی اس بچے کا ہی رشتہ قائم ہو جاتا ہے جو کہ حقیقی ماں کے رشتہ داروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور دودھ پلاتے وقت ماں کو یا آیا کچھ چاہیے اپنی خوراک کا اچھی طرح سے خیال رکھے۔ کیونکہ جو خوراک ماں کہے گی اس کا اثر ہی دودھ کے ذریعے بچے میں منتقل ہوگا اس طرح ماں کو چاہیے کہ چٹ پٹی چیزوں سے پرہیز ...