بچوں کی رہنمائی کے ذرائع یا نمبر 2.


تجربات

 تربیت کے ذرائع میں سب سے اہم ہیں تجربات، کہ ہر انسان اپنی زندگی میں بہت  سے تجربات سے گزرتا ہے وہ کچھ سیکھتا ہے اور آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور تجربہ کچھ نہ کچھ نیا سبق دیتا ہے۔


 اس معاملے میں ہر فرد عام طور پر  ایک نیا انداز رکھتا ہے اپنے علم و فہم کے مطابق اخذ کردہ نتیجہ اس کی اصل شخصیت اور کردار بنانے میں اہم ہوتا ہے۔

اور اگر بچہ ایک ایسے ماحول میں پل رہا ہے جس میں اس کو اچھی تقلید کے لیے نمونہ مل رہا ہے اچھی رہنمائی مل رہی ہے تو جب تجربہ سے گزرے گا تو ان سے بہترین نتائج اخذ کرنے کی کوشش کرے گا جو کہ اس کی کردار میں مثبت تبدیلی لائیں گے۔



اور اگر بدقسمتی سے بچہ کسی ایسے ماحول میں جوان ہو رہا ہے جہاں سے رہنمائی کے لیے نہ کوئی رہنما اور تقلید کے لیے نمونہ  نہ ہو تو جب تجربہ سے گزرتا ہے تو وہ اپنے علم کے مطابق نتیجہ اخذ کرتا ہے اور غلطیاں کر کے کچھ سیکھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس کے کردار میں وہ تبدیلی نظر ۔۔نہیں آتی جو کہ ایک اچھے رہنما کی رہنمائی میں ہونی چاہیے


اور جب بچہ اپنے حاصل کرتا نتائج پر عمل کرتا ہے جس پر اس سے بہت زیادہ اعتماد ہوتا ہے تو اس کی شخصیت میں کچھ ایسے بدلاوں آتے ہیں جس کو بدلنا ناممکن یا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ جو بچے ابتدائی عمر سے ہی خود اپنے فیصلے کرنا سیکھ جاتے ہیں زیادہ فعال، جرات مند اور خود پر اعتماد کرنے والے ہوتے ہیں ۔لیکن یہ جو جرات مندی اور عقل مندی اور خود اعتمادی ان کی شخصیت میں بہت گہرا اور جارحانہ بدلاؤ لا سکتی ہے بلکہ جب کسی مراحل میں رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے ہے تو ان کو کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔۔کہ کس طرح سے کسی معاملے کو حل کرنا ہے۔

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں