بچوں کی تربیت کے ذرائع

مومن شخص خاص طور پر بچے بالخصوص تین ذرائع سے سیکھتے ہیں۔


1 تربیت

2 تقلید

3 تجربات

تقلید

بچپن ہی سے بچے کا ہر مشاہدہ اس کے ذہن میں نقشے کی طرح جگہ بناتا چلا جاتا ہے۔ وہ جو بھی بات اپنے بڑوں سے دیکھتا ہے ،سنتا ہے وہ اس کے کردار کا جزوی حصہ بننا شروع ہو جاتی ہے۔

ہر وہ غلط بات جو حیا کے منافی ہو جھوٹ ہو ،کسی کے کردار کے خلاف ہوں، جو بات بڑوں کے سامنے کرنے سے جھجکتے ہیں وہی بات آپ کو بچے کے سامنے کرنے سے بھی شرم محسوس کرنی چاہیے۔ کیونکہ بچہ بالکل آپ کا مقلد ہوتا ہے آپ جیسا آپ اسے بنانا چاہتے ہیں اس کے سامنے ویسا ہی کردار پیش کرنا ہوگا۔

جیسا کہ آپ نے  سنا ہوگا کہ لڑکی اپنی نانی پر جاتی ہیں یہ ایسے ایسے کھولو کو ایسے ہی نہیں بن جاتے یہ صدیوں کے مشاہدات کی بنا پر کہے جاتے ہیں ہیں جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ بچہ ویسا ہی بنے گا جیسا وہ دیکھے گا تو لڑکی اپنی ماں جیسا بنا کی کوشش کرے گی جیسے اس کی ماں کرتی ہے بچی بھی ویسا ہی کرنے کی کوشش کرے گی ، وہ خود اپنی ماں کی کاپی ہوتی ہے تو اس لیے بچی نانی پر ہی جائے گی۔ تقلید میں سب سے ضروری ہے نمونہ کی ذات کہ آپ اس کے سامنے کیسا نمونہ پیش کرتے ہیں؟

 تربیت کے معاملے میں نمونہ کی ذات کو اتنی اہمیت حاصل ہے جیسا کہ میرے رب نے فرمایا میں نے انسانوں کی اصلاح کے لیے مختلف انبیاء اکرام بیجے تو وہ ہم انسانوں کے لیے نمونہ ہیں ہم ان کو فالو کرتے ہیں۔ اسی لیے بچے کے سامنے ہمیں ویسا ہی نمونہ پیش کرنا ہوگا جیسا ہم اسے بنانا چاہتے ۔ہیں




جیسا کہ آپ اس تصویر میں دیکھ سکتے ہیں اگر ماں غصہ کرنے کی کوشش کرے گی تو بچہ بھی ویسا ہی کرے گا اپنی ماں کی طرح کرنے کی کوشش کرے گا ہمیں چاہیے کہ بچوں کے سامنے اچھی طرح سے پیش آئیں تاکہ وہ بھی ابھی اچھے کردار کے مالک بنے ۔

فطری رجحان

تقلید کے ساتھ ساتھ بچوں میں فطری رجحان بھی پایا جاتا ہے بچہ تقلید ضرور کرتا ہے لیکن ان کی تقلید کے لیے اللہ تعالی نے ہر انسان کے لئے منفرد طریقہ بنایا ہے ہر بچہ دوسرے بچوں سے مختلف صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے ہر بچے کی دلچسپیاں کسی نہ کسی حد تک دوسروں سے مختلف ہوتی ہیں ۔
جیسا کہ لڑکیاں کداہیں سے اپنی ماں کی طرح کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور بچہ اپنے باپ آپ کی طرح بننے کی کوشش کرتا ہے ہے لڑکیوں کے کھیل نشانے کے طریقے اپنی ماں کی طرح کے ہوتے ہیں جیسا کہ وہ دیکھتی ہیں اور لڑکے کے مختلف طریقے اور کھیل رکھتے ہیں۔
بیٹے خاص طور پر اپنے والد کی اقوال و افعال کی نقل ہوتے ہیں ان کی دلچسپی ان کے کام مردانہ قسم کے ہوتے ہیں، اور لڑکیاں ان کے برعکس ہوتی ہیں۔


تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں