بچوں کی تربیت میں موروثی عوامل کا دخل

 ہر بچہ اپنی پیدائش سے ہی جنسیاتی طور پر دوسرے بچوں سے مختلف ہوتا ہے۔ تقریبا حمل کی ابتدا سے ہی ربے کریم اس بچے میں تقریبا پچاس ساٹھ کروڑ جرثوموں میں سے صرف ایک کو ہی وہی بار آور کے لئے منتخب کیا جاتا ہے ۔

ان کروڑوں جرثوموں میں ہر ایک جنسیاتی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ باور کرنے والے خاص جرثومہ کے علاوہ اگر دوسرا جرثومہ باور کرتا ہے تو ایک بالکل ہی مختلف شخصیت نمودار ہوتی ہے۔



جوں جوں بچہ بڑا ہوتا ہے اس کے کردار میں ہم جنسیاتی اوصاف واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ جو کہ ایک بہترین خصوصیت یا برائت کے طور پر نمایاں ہوتے ہیں اور انہیں خصوصیات یا برایت کے اشتراک سے ایک شخصیت وجود میں آتی ہے جو خود پر دوسروں کے اثرات کو معطل کرنے اور ان کے اخلاق کو بدلنے کی قوت رکھتی ہے۔


جنسیاتی عوامل کے علاوہ بھی کچھ ایسے سے افعال ہوتے ہیں جو بچے کی شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں. جن میں خاص طور پر دوران حمل بچے کی ماں کی خوراک اوقات کار, اٹھنا بیٹھنا اور اس کے ساتھ ماں کی سوچ کا بھی بچے کی شخصیت پر گہرا اثر پڑتا ہے. دوران حمل ماں جیسا سوچتی ہے اس سوچ کا اثر بچے کی دماغ پر پر کسی نہ کسی کسی طرح سے واضح ہو جاتا ہے ۔


بچے کی پیدائش کے بعد خاندان میں معاشی اور معاشرتی حالات گھریلو ماحول، خوراک، صحت بیماری اور آپس میں رنج و غم کا بھی بچے کی شخصیت پر گہرا اثر دیکھا جاسکتا ہے۔

ہر بچہ کسی نہ کسی لحاظ سے دوسرے بچے سے مختلف ہوتا ہے۔



 زیادہ تر خصوصیات جنسی طور پر والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہیں عمومن طور پر یہ دیکھا جا سکتا ہے جن کے والدین ذہین ہوں ، پڑھنے لکھنے میں اچھے ہوں ان کے بچے بھی کافی ذہین پائے جاتے ہیں۔

 اور جو بچے یعنی غریب والدین کے بچے جو ساری زندگی اپنی خوراک پوری کرنے میں گزار دیتے ہیں ان کی ذہانت بہت کا درجہ کم ہوجاتا ہے تو اسی طرح ان کے بچوں میں بھی یہ درجہ منتقل ہو جاتا ہے۔


بچے کی شخصیت کو منفرد بنانے میں بچے کی خوراک کا گہرا اثر ہوتا ہے عموماً طور پر امیر والدین کے بچے جن کو خوراک کافی اچھی مقدار میں مہیا ہوتی ہے، اور اچھی خصوصیات والی خوراک میسر ہوتی ہے ، ان کا ذہن ان کا رہن سہن ان کی بول چال دوسرے بچوں سے مختلف پائی جاتی ہے جن کو خوراک کی کمی یا گھریلو مسائل نے گھیرا ہوتا ہے۔۔




تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں