نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں
آج کل کے ابھرتے معاشرے میں بچوں کے حقوق۔
ہر معاشرہ اس میں رہنے والے اپنے فراد کو کچھ نہ کچھ حقوق دیتا ہے اس پر کچھ ذمہ داری عائد کرتا ہے اسی طرح والدین پر اولاد کا یہ حق ہے کر اس کی حیات کی تکمیل اور اس کی نشوونما کی ترقی کے لئے ہر وہ ذرائع و وسائل مہیا کرے جس سے اس کی قوت اور استطاعت ملے ۔
ہمارے معاشرے میں اسلام نئے آنے والے بچوں کے جو حقوق معین کرتا ہے ان کے بارے میں کچھ تفصیلات کا ہم ذکر کریں گے۔
بچے کی پیدائش پر خوشی کا اظہار۔
بچے کا اس دنیا میں آنے کے بعد سب سے پہلا حق یہ ہے کہ اس کے گھر والے، ان کے خاندان والے اس کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کریں یعنی کے ایک طرح سے اس کے آنے کا استقبال کیا جائے۔
اس معاملے میں آج کل کے دور میں جنس کی بنیاد پر تفریق کی جاتی ہے جو کہ ایک بہت بڑی غلط روش ہے عموماً لوگ بیٹے کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں لیکن بیٹی کی پیدائش پر وہ مسرت دیکھنے کو نظر نہیں آتی جو کہ ایک بہت بڑا المیہ ہے۔
جیسا کہ بیٹا دنیا کی زینت ہے تو اسی طرح بیٹی رحمت ہے۔ کہ اگر بیٹا دنیا کی اتنی اہم ضرورت ہوتا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور نوازا جاتا۔
بلکہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹیوں سے نوازا گیا ،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیٹیوں کی پرورش کرنے والے کو جنت کی خوشخبری دی جاتی ہے۔
نام
بچے کی پیدائش کے بعد سب سے اہم مرحلہ ہے بچے کا نام یعنی کہ اس کو کس نام سے پکارا جائے گا آئے یہی نام بعد میں اس کی پہچان بنتا ہے۔
اور اسلام میں والدین کے لئے یہ اولاد کا حق ہے کہ والدین بچے کا اچھا نام رکھیں۔ ہمارے پیارے نبی ان بچوں کے ناموں کی تحسین فرماتے جن کے معنی اچھے ہوتے اور جن بچوں کے نام کے اچھے معنی نہ ہوتے مجھے انہیں تبدیل کرنے کی تلقین فرماتے۔
اور موجودہ دور میں بچوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین اور محققین نے یہ واضح کیا ہے کہ بچوں کی شخصیت پر بچوں کے نام کا گہرا اثر ہوتا ہے انہی کی تحقیق میں سے چند مثالیں ہم آپ کے سامنے پیش کریں گے۔
نام اگر بہت منفرد ہو تو وہ شخص اپنے تمام ساتھیوں میں سے نمایاں اور منفرد نظر آتا ہے۔
اگر اس کے نام کا معنی اچھا نہ ہو تو وہ وہ لوگوں کو سامنے شرمساری محسوس کرتا ہے۔
اگر بچے کا نام کسی ڈرامے تاریخ کے ناول کے برے کردار سے ملتا جلتا ہوں تو وہ لوگوں کے سامنے آ ری محسوس کرتا ہے، اور اپنے آپ کو احساس کمتری کا شکار بنا لیتا ہے۔
Outclass knowledge
جواب دیںحذف کریں